انسان کی رقیق القلبی، نزاکتِ احساس اورتخلیقی تجسس کی بدولت فنونِ لطیفہ وجود میں آئے۔ لطیف خیالات ان نوزائید فنہائے دقیق کے واسطے شیرِمادرکی مانند ابتدائی غذاءکے طور استعمال ہوئے ۔اہل فن نے الفاظ کا دلکش وباریک اور رنگین لباس پہناکر غنائیت کے جھولے میں جھلایا۔ نیز اپنے تمام جوہر، فن شاعری پر نثار کردیئے۔ غرض ایک شفیق ماں کی طرح پالا پوسا۔ نتیجتاً اسکی محبت میں مبتلاءہوئے۔ فن کو جو چیز بھی اچھی لگی، ا سکی خدمت میں پیش کردی۔وارفتگانِ شعروشاعری، اپنے ہی پروردہ فن کے عشق میں اس قدر مبتلاءہوئے۔ کہ اپنے اس محبوب کی ہر پسند کے سامنے وجدانی شعور خوب وذشت کو بالائے طاق رکھا۔" شراب و شباب" کی دو لفظی معجون فنِ شاعری کی وارفتہ مزاجی کو بھاگئی۔ شعراءنے بھی اس معجون کا خوب استعمال کیا۔ کسی بھی روایتی شاعر کا دیوان کھولنے پر قاری محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ میخانے میں داخل ہوگیا۔ اکثرشعراحضرات بھی اس عجیب احساس کمتری کے شکار ہو گئے کہ روایتی ڈگر کو چھوڑنا دنیائے شعر میں خود کشی کے مترادف ہے۔ اور اس دنیا میںابدی زندگی سے ہمکنار ہونے کے لئے لازم ہے کہ شاعر مے کو آب ِ حیات کا درجہ دے اس کی تعریف میں الفاظ کے دریا بہا دے ۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ جوادی کا یہ کہنا حقیقت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ"بہترین شعروہی مانا جاتا تھا جو شراب کے مٹکے سے نکالا گیا ہو"۔ حسن پرستی کا رحجان بھی اردو ادب میں باقی تمام اہم موضوعات کے لئے سم قاتل ثابت ہوا دن رات حسن کی تعریف میں مشغول شاعر کو فرصت کہاں،کہ وہ دیگر مضامین کی طرف دھیان دے سکے۔ اکثر شعراءنے غم دوراں پر غمِ جاناں کو ترجیح دی۔ اور شراب کو آب حیات سے اولیٰ جانا۔ پیمانہ شراب، شاعری کاپیمانہ قرار پایا۔ روایت شکن غالب نے بھی پیمانے کی اس بندش کو بارہامحسوس کیاہے۔
ہر چندکہ ہو مشاہدہ حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے، بادہ و ساغر کہے بغیرادب کی معروف صنف یعنی غزل حسن اور معشوق پرستی کے لئے وقف ہوئی۔ "حسن زن" کے متعلق جس قدر ہمارے یہاں ادب میں مدح سرائی ملتی ہے اُس کے مقابلے میں" خالقِ زَن " کے حمد کا حصہ عشر ِعشیر بھی نہیں۔ اہل ہنر نے اس صنفِ نازک کے ہر منفی و مثبت پہلو کو ابھارا۔ صرف شاعری ہی میں نہیں تقریباً ہر فنِ لطیف میں یہ بات مشترک ہے کہ اہل ہنر کے تخیل کے شیش محل میں عورت کی جلوہ گری تمام موزوعات پر چھائی رہتی ہے۔ بقولِ اقبال
ہند کے شاعرو صورت گر و افسانہ نویس آہ!
بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
اس بات کو تسلیم کرنے میں اہل ِفن پس و پیش کرتے تھے کہ شاعر انسانی فکر کی اصلاح کا فریضہ اثر انگیز طریقے سے انجام دے سکتاہے۔ بقول علامہ اقبال شاعر سماجی جسم میں دیدہ بینا کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بھی اس سماج میں سے کوئی عضو درد میں مبتلاءہو جائے۔ یعنی مفاسد کاشکار ہوجائے تو شاعرجذبہ و فن کا استعمال کرکے اپنے ہم نفس بشر کو نفسیاتی کمک فراہم کرسکتا ہے۔ لیکن اب اگر شاعر خود ہی مفاسد اور خرابیوں کے ہتھے چڑھ جائے۔ تو پھر عام افراد کا خدا ہی حافظ۔! اہل فن کا بگڑنا گویا پورے سماج کا بگڑنا ہے۔ اس بات کی تصدیق علامہ اقبال کے اس قول سے بھی ہوتی ہے "کہ کسی قوم کی معنوی صحت زیادہ تر اس روح کی نوعیت پر منحصر ہے جو اسکے اندر اسکے شعراءاور صاحبانِ فن پیدا کرتے ہیں۔
لھٰذا کسی اہل ہنر کا مائل بہ اغلاط ضمیر اور تصور ایک قوم کے لئے ایٹ لا اور چنگیز کے لشکروں سے زیادہ تباہ کن ہو سکتا ہے بشرطیکہ اسکی تصویریں یا اسکے